گھر کی دیواروں کے جب کان نکل آتے ہیں
عیب جوئی کے بھی دندان نکل آتے ہیں
مل کے بیٹھیں گے تو حل مشکلیں ہو جائیں گی
گفتگو سے کئی امکان نکل آتے ہیں
دام گر اچھا ملے، دیکھا ہے دیں داروں کو
لے کے بازاروں میں ایمان نکل آتے ہیں
روز محفل میں تری جاتے ہیں لے کر لیکن
دل کے دل میں لیے ارمان نکل آتے ہیں
عزم و ہمت سے اگر کام لیا جائے تو
راستے خود بخود آسان نکل آتے ہیں
ہے نہیں آساں دل درد چھپانا یارو
زخم بھر کے بھی نشانان نکل آتے ہیں
خون کے رشتے سے انجان ہوئے لوگ بصیر
جان لینے سے بھی انجان نکل اتے ہیں