غزل: تُو جو مل جائے
تُو جو مل جائے، تو دنیا سنور جائے
دل کی ویران گلی، پھر سے گھر جائے
تیری باتوں میں ہو جیسے کوئی نغمہ
ہر اک لفظ، مری روح کو چھو جائے
چاند راتوں میں تیرا عکس جھلکے
تُو جو دیکھے، تو موسم بھی مسکرائے
یاد کی بارشیں، خواب کی خوشبو
تُو نہ ہو، تو یہ سب کچھ بکھر جائے
میرے دل کی صدا، تُجھ سے وابستہ
تُو جو روٹھے، تو دل بھی اُجڑ جائے