عشق میں راحت و مسکان نہیں
ہمیں اب ذات کی پہچان نہیں
دل کے آئینے پہ دھند ایسی ہے
اب کوئی نقش بھی نمایاں نہیں
خود سے ملنے کی تمنا تھی مگر
پاس اپنے کوئی سامان نہیں
تیری یادوں کا ہے پہرہ ہر سو
اب کسی اور کا دھیان نہیں
ہم نے مانا کہ محبت ہے خطا
پر یہ رستہ بھی تو آسان نہیں
زندگی دھوپ کی مانند ہوئی
سایہ کرنے کو گلستان نہیں
بند آنکھوں میں سجے ہیں سپنے
جاگتی آنکھ میں طوفان نہیں
حافیؔ اب شہرِ تمنا میں ہمیں
اپنے ہونے کا بھی ارمان نہیں