پہلا بند:
تم گئے تو خاموشیاں رہ گئیں،
باتوں کے سارے سلسلے کہی رہ گئیں،
ہنسی وہ چہرا، خوابوں کی طرح،
اب آنکھوں میں آنسو بنے رہ گئیں۔
کورس:
تم گئے تو کیا بچا،
دل کا جہاں جل گیا،
محبت تھی یا کوئی سزا،
یہ فیصلہ نہ ہو سکا۔
دوسرا بند:
یادوں کی سڑک پہ چلتا ہوں میں،
ہر موڑ پہ تیرا چہرہ ہے،
چاندنی راتیں اب سنسان لگیں،
دل کہتا ہے — تُو ہی میرا ہے۔
کورس:
تم گئے تو کیا بچا،
دل کا جہاں جل گیا،
محبت تھی یا کوئی سزا،
یہ فیصلہ نہ ہو سکا۔
اختتام:
وقت گزرے، پر درد نہ مٹے،
نام تیرا دل سے نہ ہٹے،
اگر کبھی لوٹ آؤ تم،
یہ دل پھر سے مسکرا اُٹھے۔