رُکتا نہیں دل، تری خواہش کے سفر میں
ٹوٹا ہے مگر جوش نہیں اپنے اثر میں
چاندی سی وہ یادیں، ابھی تک ہیں مہکتی
آنگن میں مگر چاند نہیں اپنی نظر میں
پلکوں پہ تری یاد کے جگنو ہیں سجے سے
دھوکا سا یہ دل دے رہا ہے اپنے ہی گھر میں
خواہش کا مسافر ہے، مگر راہ سے بھٹکا
سایہ بھی نہیں ساتھ کسی رہگزر میں
بادل ہے تری یاد کا، چھائے ہوئے دل پر
برسے بھی نہیں، آگ لگائے ہوئے دل پر