یہ دنیا وفا کی جگہ ہی نہیں ہے
یہ عبرت کی بستی ہے، جنت نہیں ہے
کہیں تاج والے ہیں اب خاک میں گُم
کہیں شان والے ہوئے بے نشاں یوں
یہ سب کچھ جہاں میں ہے اک داستاں یوں
یہ عبرت کی بستی ہے، جنت نہیں ہے
محل جو تھے آباد، اب خالی پڑے ہیں
جو کل تک تھے زندہ، وہ مٹی بنے ہیں
یہ منظر جہاں میں ہر اک سمت دکھے ہیں
یہ عبرت کی بستی ہے، جنت نہیں ہے
نہ کسریٰ بچا ہے نہ دارا بچا ہے
یہاں سب کا انجام یکساں ہوا ہے
سکندر سا فاتح بھی آخر ہارا ہے
یہ عبرت کی بستی ہے، جنت نہیں ہے
جوانی کا نشہ بھی دھوکا دکھائے
بڑھاپا تجھے ایک دن رُلا کے ستائے
اَجل آ کے آخر سب کچھ مٹا جائے
یہ عبرت کی بستی ہے، جنت نہیں ہے
یہ دنیا ہے فانی، یہ دھوکے کا سایہ
یہاں کا ٹھکانا ہے بس چند لمحہ
نبی ﷺ کی اطاعت ہے رستہ سہارا
یہ عبرت کی بستی ہے، جنت نہیں ہے
[Female Vocal]