یا، مظہر کا نام، یہ شہر گونج اُٹھے،
جوہر کنگ کے ساتھ، سب کو ہم چھا لیں گے۔
(Verse 1)
مظہر راجا، جب چلوں، شہر تھم جائے،
جوہر کنگ کا ساتھ، یہ گلیاں کرپٹ ہو جائے,
ہم جو بولیں، وہ سچ، ہم جو کریں، وہ دکھا دیں،
مظہر کا راج ہے، اب دشمنوں کا کیا حال ہو جائے؟
یہ شہر ہمارا، ہم جیسے حکم دیتے ہیں،
جہاں پاؤں رکھیں، وہ جگہ سونا بن جاتی ہے,
جو بھی سامنے آئے، وہ ہم سے ٹکرا جائے،
مظہر اور جوہر کا راج، پھر سب کچھ اپنا ہو جائے!
(Chorus)
مظہر دی کنگ پن، ہم نے راج بنایا,
جوہر کنگ کے سنگ، دنیا نے ہمیں سمجھایا,
گلیوں میں دھاڑ، جب ہم چلیں، زمین ہلے,
مظہر کا راج، ہم جو کہیں وہ سچ ہو، تم نہ سمجھے!
(Verse 2)
رنگ بدلتے ہیں، شہر کی گلیوں میں ہم ہیں،
جو ہم چاہتے ہیں، وہ ملتا ہے، ہم ہیں وہ جنہوں نے جیتا ہے,
یہ بیس کی گونج، یہ دھڑکنیں تیز،
جیسے دریا کا پانی، ہم بہتے ہیں، پھر بھی ٹھہرے نہیں ہیں۔
ہم سے لڑنا، یہ تمہارا خواب تھا،
اب وہ خواب ٹوٹا، ہم بن چکے ہیں حکمران,
جوہر کنگ کا ساتھ، ہم نے سچ کا راہ دکھایا,
مظہر کا نام، یہ تاریخ میں چھا جائے، یہ شہزادہ ہی پچھاڑے!
(Chorus)
مظہر دی کنگ پن، ہم نے راج بنایا,
جوہر کنگ کے سنگ، دنیا نے ہمیں سمجھایا,
گلیوں میں دھاڑ، جب ہم چلیں، زمین ہلے,
مظہر کا راج، ہم جو کہیں وہ سچ ہو، تم نہ سمجھے!
(Bridge)
یہ نہیں تھا خواب، یہ تھا ہم دونوں کا سفر,
ہم نے زمین کو ہلایا، یہ راج کا اثر,
جوہر کنگ کا ساتھ، مظہر کا غصہ،
ہم دونوں کا راج، تم سب ہو بس گواہ۔
(Outro)
مظہر دی کنگ پن، جب تک یہ بیس گونجے,
ہم دونوں کا راج، تمہارے ذہن میں سجے,
اب تمہیں پتا چلا، ہم نے یہ فتح پائی,
یہ مظہر کا راج، کبھی نہ ٹوٹے، ہمیشہ سچائی۔