تُو بےکمال ہے… میں ہوں سوال بھی…
تیرا کوئی نہیں… پر میرا حال بھی…
تُو ایک سراب ہے، میرا خواب تُو،
تیرے بنا آیا، مجھ پر زوال بھی،
تُو ایک سوال ہے، ہے بےکمال تُو،
تجھے پانے کی خاطر، میں ہوا بےقرار بھی…
اب میرا حال ہے، جیسے کوئی دھند میں،
تُو جو پاس ہو، روشنی ہے زندگی میں،
تُو ہی جواب ہے، میرے ہر سوال کا،
پھر بھی راہ میں، چھپ گیا کیوں خواب سا؟
پھر میں چل پڑا، لے کے یہ انتظار،
کیا کبھی ملے گا، میرا دل قرار؟
یا یونہی رہیں گے، یہ سوال بےجواب،
یا کہیں ملے گی، وہ امید کی کتاب؟
تُو بےکمال ہے… میں ہوں سوال بھی…
تیرا کوئی نہیں… پر میرا حال بھی…
تُو بےکمال ہے… میں ہوں سوال بھی…