تجھے جو اپنا بنا لیں ہم
تجھے جو اپنا بنا لیں ہم
تو زخمِ دل بھی سہلا لیں ہم
چراغِ جاں کو جلا لیں ہم
اندھیروں میں بھی سنبھالیں ہم
تری نگاہوں کا جادو ہے
نظر کو اپنی چرا لیں ہم
تری وفاؤں کا سہارا لے
زمانے بھر سے الجھ لیں ہم
اگر تری یاد میسر ہو
تو خواب سارے سجا لیں ہم
محبتوں کی وہ بارش ہے
تری دعاؤں میں نہا لیں ہم
واصفؔ یہ دل کی تمنا ہے
تجھے غزل میں سجا لیں ہم