[Intro]
یہ مٹی بولے، یہ دل جاگے
پاکستان، خوابوں کے آگے
[Verse 1]
خیبر کی ہوا میں حوصلے کا رنگ ہے
سندھ کے صحرا میں صدیوں کی امنگ ہے
پنجاب کی مٹی، گندم جیسی شان
بلوچستان کے پہاڑ، سینہ بے مثال
لاہور کی گلیوں میں علم کی صدا
کراچی کے ساحل پہ محنت کی ادا
اسلام آباد کی وادی، خاموش مگر جوان
گلگت کے راستوں پہ آسمان مہمان
ہم نے پتھر سے راستے نکالے ہیں
کم وسائل میں خواب سنبھالے ہیں
گر کے اٹھے، پھر قدم بڑھایا
ہر مشکل کو نام اپنا بتایا
[Pre-Chorus]
ہاتھ میں ہنر، آنکھ میں یقین
دل میں وطن، لب پر زمین
[Chorus]
یہ پاکستان، ہماری جان
پہاڑوں سا بلند ارمان
شہروں سے گاؤں تک ایک آواز
ہم ہیں امید، ہم ہیں پرواز
یہ پاکستان، ہمارا خواب
محنت سے روشن ہر ایک باب
آندھی آئے، وقت آزمائے
پاکستانی دل پھر بھی مسکرائے
[Verse 2]
نوجوان ہاتھوں میں کل کی تعمیر
کوڈ بھی لکھیں، بجائیں زنجیر
کتابیں، کھیل، فنون، کاروبار
اپنی محنت سے بدلیں بازار
ماں کی دعا اور باپ کا پسینہ
ہر کامیابی کا اصل خزینہ
دھوپ میں چل کر سایہ بنائیں
اپنے لیے نہیں، سب کو اٹھائیں
رُباب کی تان میں پہاڑوں کی بات
ڈھول کی تھاپ میں دھڑکے حیات
طبلے کی لے، قدموں کا سفر
ہم سے روشن ہو آنے والا کل
[Bridge]
نہ رکنا، نہ جھکنا، یہی ہے اصول
اندھیری گھڑی میں بھی رکھنا قبول
کہ خواب کوئی دور نہیں
جب قوم کا دل مجبور نہیں
[Chorus]
یہ پاکستان، ہماری جان
پہاڑوں سا بلند ارمان
شہروں سے گاؤں تک ایک آواز
ہم ہیں امید، ہم ہیں پرواز
یہ پاکستان، ہمارا خواب
محنت سے روشن ہر ایک باب
آندھی آئے، وقت آزمائے
پاکستانی دل پھر بھی مسکرائے
[Outro]
ایک دل، ایک سمت، ایک پہچان
ہم زندہ قوم، ہم پاکستان
خوابوں کو لے کر آگے روان
پاکستان، پاکستان