

Prompt / Lyrics
جھولا او جھولا، ماں مجھ کو جھولو نہ جھولا اب یاد تیری آتی ہے، آ کے سلا دو نہ ماں نیندوں کی وادی سنسان سی لگتی ہے ماں لوری کی وہ باتیں پھر سے سنا دو نہ ماں ہوا بھی چپ ہے اب، چاندنی بھی اداس ہے آنچل کی وہ چھاؤں پھر سے دکھا دو نہ ماں تارے بھی خاموش ہیں، دل بھی ہے تنہا بہت پیار سے سر پہ ہاتھ اپنا رکھ دو نہ ماں ماں کی وہ میٹھی باتیں دل کو رُلا دیتی ہیں آغوش میں لے کر پھر سے ہنسا دو نہ ماں جھولا او جھولا، خالی ہے اب یہ جھولا میری ادھوری دنیا کو خود سے ملا دو نہ ماں 🌙
Tags
blues, pop, j-popر روایتی طور پر
1:23
No
3/29/2026